asadali93944
Feb 4
73
275
2
11%
بہت جلد نور الدین زنگی اور نجم الدین ایوبی کے کردار بھی ڈرامے میں انتقال کروا دیۓ جائیں گے۔ اب بہت لوگوں کو برا لگے گا لیکن یہ بات تاریخی ہے اور تاریخ سے ثابت شدہ ہے کہ نور الدین زنگی اور نجم الدین ایوبی جو صلاح الدین ایوبی کے بڑے تھے، (نجم الدین ان کے والد تھے) ان کا انتقال ایک ساتھ ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت صلاح الدین ایوبی بلکل تنہا ہو چکے تھے، ان کے سر پر کسی بڑے کا ہاتھ نہ رہا اور جب شرکوہ، نور الدین، نجم الدین، اور مودود کا انتقال ہوا تھا تب صلاح الدین ایوبی صرف 28 برس کے تھے، بہت جوان تھے اور وزیر تھے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ سلطان صلاح الدین نے کیسی کیسی مشکلات دیکھی ہوں گی۔ نور الدین کے انتقال کے بعد دمشق کے ارد گرد صلیبیوں نے ڈیرے ڈال دیۓ تھے۔ دمشق کو خطرہ تھا، دوسری طرف صلاح الدین مصر میں موجود غداروں سے لڑنے میں مصروف تھا۔ اب تنہا صلاح الدین پر دو دو جگہوں کی بھاری ذمے داری تھی، مصر اور دمشق دونوں کی فکر تھی ان کو۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ دمشق واپس جا کر دمشق کے حالات کو سنبھالیں گے کیوں کہ اگر انہوں نے دمشق کے معاملات میں مداخلت نہ کی ہوتی تو دمشق صلیبی لے جاتے۔ پھر دمشق میں موجود نور الدین کے بیٹوں نے بھی مسائل کھڑے کیۓ ہوۓ تھے، تخت کے لیۓ۔ صلاح الدین نے ان کو بہت وقت دیا کہ وہ دمشق کی سربراہی کے لیۓ کوئ سلطان چن لیں لیکن انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا شروع کر دی تھی اسی وجہ سے صلاح الدین نے خود دمشق کو اپنے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا۔ صلاح الدین مصر اور دمشق دونوں کا سلطان بن چکا تھا، اور انہوں نے تنہا رہ کر دونوں جگہوں کی بہترین طریکے سے حفاظت کی۔ اس وقت صلاح الدین کے ساتھ صرف شمسہ تھی، جس نے اس کو ہر محاز پر support کیا تھا۔@عدنان. . راجپوت @Usman Farooq
asadali93944
Feb 4
73
275
2
11%
Cost:
Manual Stats:
Include in groups:
Products:
