47
530
27
65.9%
کہنے کو تو ایک معمولی سا جملہ ہے، لیکن اگر اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ارتقا انسانیت کی آخری منزل یہی ہے۔ خدا کے لیے جینا ۔۔۔۔ مشائخ چشت نے انسانوں کو خدا کے لئے جینا سکھایا۔ اکابرین چشت کا کہنا یہ ہے کہ محبت ہی راز حیات ہے۔ اگر اس کی آگ دل میں نہ ہو، تو وہ گوشت کا ایک بے جان ٹکڑا ہے۔ اگر عشق کی گرمی ہو تو انوار ربانی کا محل ۔۔۔ محبت کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی زندگی سمٹ کر ایک مرکز پر آ جائے۔ اس کا بال بال یہ پکارنے لگے ترجمہ : بے شبہہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اسی ایک عالم کے پروردگار الله کے لیے ہے۔" ( سوره الانعام (126) خدا کے لیے جینے کے معنی یہ نہیں کہ انسان دنیا و مافیہا سے قطع تعلق کر لے اور ایک گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر عبادت کرنے لگے۔ وہ شادی بھی کرے، کھائے بھی ، اللہ کی مخلوق سے ملے بھی لیکن اس طرح کہ وہ علائق بجوم اور تعلقات کے ازدحام میں گرفتار ہو کر اپنے معبود حقیقی کو بھول نہ جائے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے مستفید ہو۔ لیکن دنیا کی محبت اس کے دل میں جگہ نہ حاصل کرنے پائے۔ وہ ہر کام میں رضائے الہی کا طلب گار ہو۔ خدا کے لیے جینا نیت کا ایک زبردست انقلاب ہے۔ ایسا انقلاب جو انسانی زندگی کے مرکز و محور کو بدل دیتا ہے۔ انسان کا ہر کام کسی اعلی مقصد کی تکمیل کے لیے ہونے لگتا ہے۔ وہ دنیا کا ہر کام کرتا ہے لیکن اس کی نیت عام انسانوں سے مختلف ہوتی ہے۔ محبت الہی کا سب سے بڑا اور گہرا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں مرکزیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ مرکزیت نظام ربوبیت کی ایک شان اور خدا کی وحدانیت پر کامل ایمان کا لازمی نتیجہ ہے حضرت سید علی ہجویری فرماتے ہیں کہ صرف یہ علم کہ خدا دیکھ رہا ہے انسان کو معصیت سے روکتا ہے۔ التماس دعا: صاحبزاده محمد عاصم مهاروی چشتی... #foryoupage #foryou #viral #fypシ #trending #unfreezemyacount #fmgrascal#pic #sufiwrites #sahibzada_asim_mairvi❤️❤️
47
530
27
65.9%
Cost:
Manual Stats:
Include in groups:
Products: